روزانہ ایہک گلاس نارنجی کا جوس فالج کےخطرے کو کم کرتا ہے۔

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 11:09:00 PM -
  • 0 comments
الینڈ: 
ایکسپریس نیوز نارنجی کے رس کے فوائد پہلے بھی بتاتا رہا ہے اور اب ایک بہت بڑے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ایک گلاس نارنجی کا رس پینے والوں میں فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
یہ مطالعہ ہزاروں افراد پر کیا گیا جو دس سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ لیکن مغربی ممالک میں شکر سے دور بھاگنے کے رحجان سے نارنجی کے رس کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی ۔
ہالینڈ میں نیشنل انسٹٰی ٹیوٹ آف ہیلتھ اینڈ اینوائرمنٹ نے یورپی کینسر اینڈ نیوٹریشن پروگرام کے تحت 35000 افراد کا 15سال سے زائد عرصے تک سروے کیا جن میں 20 سے لے کر 70 سال تک کے افراد شامل تھے۔ اس سروے کا مقصد غذا، صحت یا اس سے ہونے یا نہ ہونے والی بیماریوں کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔
تاہم تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف نارنجی کے جوس سے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ دیگر اقسام کے تازہ پھلوں کا رس بھی اسے روکنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر ہفتے میں 8 مرتبہ نارنجی کا رس پیا جائے تو فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے جبکہ ایک دن چھوڑ کر ایک دن یہ رس پینے سے فالج کا خطرہ 20 فیصد تک ٹلتا ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ اورنج جوس دل کے امراض کے خطرے کو بھی دور کرتا ہے اور اس سے  دل کی شریانوں کے متاثر ہونےکا خدشہ 12 سے 13 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ اس کے رس میں پھل کے تمام اہم کیمیکلز اور فلے وینوئڈز پائے جاتے ہیں جس سے خون کے لوتھڑے بننے کی شرح کم ہوتی ہے اور یوں فالج یا لقوے کا خطرہ کم سے کم ہوتا جاتا ہے۔
فالج کے اکثر واقعات میں خون کا لوتھڑا جسم سے گھومتا ہوا دماغ کی باریک رگوں میں پھنس جاتا ہے اور یوں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہوجاتی ہے جس سے فوری موت واقع ہوجاتی ہے یا بچ جانے والے کسی نہ کسی معذوری کے شکار ہوجاتے ہیں۔
اسی لیے ماہرین نے کہا ہے کہ شکر سے پرہیز کرنے والے افراد نارنجی کا رس پینے سے دور نہ ہٹیں کیونکہ اس کے بے پناہ فوائد ہیں۔
Source.

Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: