نواز شریف سے کبھی استعفیٰ نہیں مانگا، سابق ڈی جی آئی ایس آئی 15 اکتوبر 2020

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 10:17:00 PM -
  • 0 comments

 

نوازشریف سے کبھی استعفیٰ نہیں مانگا، سابق ڈی جی آئی ایس آئی 

سلام آباد (انصار عباسی) آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی سابق وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ طلب نہیں کیا۔ بدھ کو دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے دوٹوک الفاظ میں انکار کیا کہ انہوں نے کسی بھی شخص کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کو کوئی پیغام بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کو بھی وزیراعظم کو کوئی پیغام دینے کیلئے نہیں بھیجا، یہ بالکل غلط ہے۔

اس کی بجائے، انہوں نے اصرار کیا کہ 2014ء کے دھرنے کے وقت ہر موقع پر وہ حکومت کو مشورہ دیتے رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے سیاسی انداز سے نمٹا جائے تاکہ احتجاج ختم کیا جا سکے۔ حال ہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلی مرتبہ سب کے سامنے دعویٰ کیا کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے 2014ء کے حکومت مخالف دھرنے کے دوران انہیں پیغام بھیجا تھا کہ ’’آدھی رات تک استعفیٰ دے دیں۔‘‘ حال ہی میں منعقدہ مسلم لیگ نون کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران نواز شریف نے پارٹی ارکان کو بتایا کہ ’’مجھے آدھی رات ایک پیغام ملا تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’کہا گیا تھا کہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو نتائج بھگتنا ہوں گے اور مارشل لاء بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔‘‘ نواز شریف نے کہا، ’’میں نے کہا ۔۔ جو چاہیں کر لیں لیکن میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔‘‘ تاہم، نواز شریف نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جو ان کے پاس ڈی جی آئی ایس آئی کا پیغام لیکر آیا تھا۔ 2014ء میں، پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک نے 126؍ دن تک اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا جو 2013ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نواز شریف نے کھل کر اپنی حکومت کا تختہ الٹنے کے ظہیر الاسلام کے مبینہ منصوبے کے حوالے سے کوئی بات کہی ہے۔

Source-

Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: