ہلدی

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 3:43:00 AM -
  • 0 comments

ہلدی ہمارے گھروں میں عام استعمال کی چیز ہے۔ یہ دورِحاضر کی تمام خطرناک بیماریوں کا علاج ہے۔ جگر اور دل کے امراض، کینسر الرجی، دمہ ، جلدی امراض جوڑوں کادرد،یرقان، شوگر، سوزش کے علاوہ کئی دوسری بیماریوں کا علاج ہے۔ 
ہلدی کو عربی میں عروق الصفر،فارسی میں زرد چوب،اور انگریزی میں ٹرمیرک Turmeric کہتے ہیں
 یہ ایک پہاڑی نبات کی جڑ ہے۔ اسکی شاخ تقریباً دو گز لمبی ہوتی ہے شاخ کے آخر میں زرد رنگ کے پھولوں کا خوشہ قریباً دس بارہ انگل لمبا ہوتا ہے۔ ہلدی میں سلفر کا جزو ہوتاہے گویا یہ نباتاتی گندھک ہے۔ہلدی سے ایک قسم کاتیل ٹرمرک آئل نکلتا ہے اور زرد رنگ "کرکیومن" نکلتے ہین۔
رنگ۔ زرد
ذائقہ ۔ تلخ
مزاج ۔ گرم خشک درجہ سوم 
مقدار خوراک ۔ ایک ماشہ سے تین ماشہ تک  ۔
افعال و استعمال  طبی  اور شفائی خصوصیات
1- ہلدی محللِ  (۔تحلیل کرنا ) اورام ، مسکن (درد کو تسکین دینے والی)، مصفٰی خون اور جالی (صاف کرنے والی) ہے۔
2 ۔ہلدی میں مانع تکسیدی   خصوصیات پائی جاتی ہیں جسکی وجہ سے  گھی ، مارجرین،پنیر اور دوسری غذائی اشیائ میں استعمال کیا جاتا ہے۔
3 ۔ انٹی کینسر خصوصیات۔  کینسر کو روکنے کے علاوہ ہلدی میں موجود کرکومین میں کینسر کو ختم کرنے کی خصوصیات موجود ہیں۔ہلدی اور کرکومین دونوں میں کینسر پیدا کرنے والے مرکبات کے اثرات کو ختم کرنے کی خوبیاں موجود ہیں۔
4 ۔ اینٹی سوزش خصوصیات ۔ ہلدی اور اسکے مرکبات اندرونی اور بیرونی سوزش کیلئے انتہائی مفید ہیں۔ یہ خوبی ہلدی کے تیل میں سب سے زیادہ ہےاور اس کا مقابلہ فی نائل بیوٹا زون اور کارٹی سون سے کیا جاسکتا ہے۔ فینائل بیوٹازون اور کارٹی سون میں زہریلے اثرات پائے جاتے ہیں۔ لیکن ہلدی اور کرکومین میں زہریلے اثرات بالکل نہین پائے جاتے۔
5 ۔ دل کے امراض۔
 ہلدی اور اس کے مرکبات کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں۔ پلیٹ لیٹ کو اکٹھا ہونے سے روکتے ہیں ۔ یہ وریدوں کے تنگ راستے کو کھولتی ہے۔ہلدی اور اس کے مرکبا ت کولیسٹرول کو جسم میں جذب ہونے کے عمل کو روکتے ہیں۔
6 ۔ جگر کے امراض۔  
ہلدی میں بھی ملٹھی اور اونٹ کٹارہ کی طرح جگر پر اچھے اثرات پیدا کرنے کی خوبیاں موجود ہیں۔ یہ خوبی بھی اس کی مانع تکسیدی خصوصیات کی وجہ سے ہیں۔ اس میں بائل بڑھانے کیخوبی موجود ہے۔ کرکومین جسم میں بائل کی مقدارکوسو فیصد بڑھادیتی ہے۔ اور بائل کے حل ہونے کی خوبی کو بھی بڑھاتی ہے۔ جس کی وجہ سے پتھریوں کو گال بلیڈر اور بائل کی نالی میں بننے سے روکتی ہے۔
7 ۔ معدہ کے امراض ۔
ہلدی اور اس کے مرکبات نظامِ ہضم  کیلئے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ معدہ اور آنتوں میں یہ گیس بننے نہیں دیتی اور آنتوں کے مروڑ میں مفید ہے۔
8 ۔ انٹی میکروبیل اور انٹی وائرل خصوصیات۔
وہ میکروب جو گال بلیڈ ر کی سوزش کا باعث بنتے ہیں ہلدی انکو ختم کرتی ہے اس کے علاوہ یہ دوسرے میکروآرگے نزم Macro Organism کی نشونما روکتی ہے۔ بہت سے پیرتھوجینک فنجائی کے بڑھنے کو روکتی ہے۔

9 ۔ نظامِ تنفس پر اثرات.
 ہلدی کے فراری تیل پر کیئے گئے تجربات   سے یہ بات سامنےآئی ہے  کہ دمہ کے مریضوں میں اس کے استعمال سے افاقہ ہوا ہے۔ یہ خوبی صدیوں پہلے کتابوں میں لکھی جا چکی ہے۔ 
10 ۔ ذیابیطس 
ہلدی ذیابیطس کے مریضوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے اس کے استعمال سے بلڈ شوگر  کولیسٹرول ٹرائی گلسرائیڈ فاس لپیڈ میں کمی واقع ہوئی ۔
11 ۔ زخم کا جلد ٹھیک ہونا
زخم کو جلد ٹھیک کرنے کیلئے زخم پر ہلدی کا پائوڈر لگانے سے زخم جلد ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
12 ۔ جوڑون کا درد ۔  جوڑون کے درد اور سوزش کو دور کرنے کیلئے ہلدی بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔
13 ۔ سوزش کیلئے تلوں کے تیل کے ساتھ ملاکر لیپ کرنے سے فائدہ مند ہے۔
14 ۔ دھونی کے طور پر استعمال کرنے سے بند نزلہ زکام جاری ہو جاتا ہے۔
15 ۔ استسقا اور پرانے بخاروں کیلئے بہت مفید ہے۔ 
ابٹن میں استعمال ہوتی ہے داغوں اور چھائیوں کو دور کرتی ہے۔
16 ۔ ہلدی اینٹی الرجی خصوصیات کی حامل ہے۔





Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: