صحت کے لئے انڈے کتنے فائدہ مند ہیں؟

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 3:46:00 AM -
  • 0 comments


 انڈوں کا شمار صحت بخش غذاؤں میں ہوتا ہے۔ تاہم، بعض اوقات کچھ لوگ زردی میں موجود ہائی کولیسٹرول کی وجہ سے انڈہ کھانے والے کو شش و پنج میں مبتلا کردیتے ہیں۔ انڈے کی زردی میں موجود کولیسٹرول اتناخطرناک نہیں کیوںکہ آپ جتنی چربی (Fat)بطور غذا لیتے ہیں آپ کا جسم اتنی ہی کم چربی پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈے کولیسٹرول کی سطح میں خاص اضافہ نہیں کرتے۔ آج کے مضمون میں اس بات پر روشنی ڈالی جارہی ہے کہ روزانہ کتنے انڈوں کا استعمال انسانی جسم کے لیے محفوظ ہے۔

انسانی جسم اور کولیسٹرول کی سطح

عام طور پر زیادہ تر افراد کولیسٹرول کو صحت کے لیے نقصان دہ تصور کرتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً کچھ مطالعات ہیں، جن میںجسم میں موجود اضافی کولیسٹرول کو دل کی بیماریوں اور جلد موت کا باعث قرار دیا گیا ہے مگر اب تک اس حوالے سے ثبوت ناکافی ہیں۔ کولیسٹرول دو طرح کا ہوتا ہے، لو ڈینسٹی لیپوپروٹین (ایل ڈی ایل) اور ہائی ڈینسٹی لیپوپروٹین (ایچ ڈی ایل)۔ اچھے کولیسٹرول کو ایچ ڈی ایل اور برے کو ایل ڈی ایل کہا جاتا ہے۔ 

اچھے کا کام ہے جسم کے خلیوں کو مضبوط کرنا اور ایل ڈی ایل کے حملوں کو روکنا جبکہ بُرے کا کام ہے ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہنا کہ کوئی کام سنورنے نہ پائے۔ دراصل کولیسٹرول مالیکیول کی ایک ساخت (Structural molecule) ہے، جسے ہر خلیے کی جھلی کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی جسم میں موجود کولیسٹرول بہت سے اہم افعال سرانجام دیتا ہے۔ کولیسٹرول اسٹیرائیڈ ہارمون مثلاًٹسٹوسیٹرون، ایسٹروجن اور کارٹیسول کی تیاری میں بھی مدد کرتا ہے۔

طبی ماہرین کی رائے

طبی ماہرین کے مطابق، درحقیقت کولیسٹرول خون میں چکنائی کے ساتھ شامل ہوتا ہے اور ہمیں تحفظ دیتا ہے۔ اس بنا پر اکثر افراد کولیسٹرول کو چکنائی کا مادہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ تاہم، کولیسٹرول کو چکنائی نہیں کہا جاسکتا، اس لیے کہ یہ توانائی پیدا نہیں کرتا جبکہ چکنائی توانائی پیدا کرتی ہے۔

کولیسٹرول کی اہمیت کے پیش نظرانسانی جسم میں وسیع پیمانے پر کولیسٹرول کی تیاری کے طریقے موجود ہیں کیونکہ صرف غذا سے ہی کولیسٹرول کا حصو ل واحد آپشن نہیں۔ جگر خود بھی انسانی جسم کے لیے ضروری کولیسٹرول تیار کرتا ہے، لہٰذاجب کوئی شخص کولیسٹرول پر مشتمل غذاؤں کا استعمال بہت زیادہ کرنے لگتاہے تو جگر کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث کولیسٹرول کی تیاری کم کردیتا ہے۔ اس طرح جسم میں کولیسٹرول کی مکمل مقدار میں معمولی سی تبدیلی ہی آتی ہے۔ طبی ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ اگر خون میں کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہوجائے تو انسان کوکولیسٹرول پر مشتمل غذائیں لینے سے پرہیزکرنا چاہیے کیونکہ اس صورت میں کولیسٹرول کی سطح میں اضافے کا خدشہ ہوتا ہے۔

زردی سمیت انڈے کھانا

عموماً لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ تعداد میں انڈوں کے استعمال سے گریز کریں یا کم ازکم انڈے کی زرد ی کا استعمال محدود کردیں۔ ایک درمیانے سائز کے انڈے میں 186ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے ، جو طبی ماہرین کی تجویز کردہ روزانہ کی ضرورت(RDI)کا 62فیصد بنتا ہے۔ عام طور پر ہفتے میں 2سے 6زردیاں کھانے کی تجویز دی جاتی ہے۔ ایک مطالعے میں انڈے کے کولیسٹرول کی سطح پر پڑنے والے اثرات سے متعلق جانچا گیا۔ تحقیق میں شامل افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو روزانہ کی بنیاد پر2 سے3مکمل انڈے کھلائے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو انڈوں کے متبادل کے طور پر دوسری غذاؤں کا استعمال کروایا گیا۔ تحقیق سے ثابت ہواکہ ؛

٭ دونوں گروپس میں شامل شرکاء میں اچھے کولیسٹرول (HDL)کی سطح میں اضافہ ہوا۔

٭ برے کولیسٹرول(LDL)کی سطح میں عام طور پر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی لیکن بعض اوقات یہ سطح بڑھتی دکھائی دی۔

٭ اومیگا 3فیٹی ایسڈ پر مشتمل انڈے بلڈ ٹرائگلسرائڈس (Triglycerides) کی سطح کم کردیتے ہیں جو کہ خطرے کی علامت ہے۔

٭ خون کی سطح میںکیروٹینائڈ اینٹی آکسیڈنٹس (Carotenoid antioxidants) مثلاًلیوٹین اور زیزانتھن کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا۔

چنانچہ محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ مکمل انڈے کااستعمال ہر فرد پر مختلف طرح کا ردعمل دکھاتا ہے کیونکہ70فیصد لوگوں میں انڈوں کے استعمال کے باعث برے کولیسٹرول کی سطح میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی جبکہ 30فیصد لوگوں میں ہائپر ریسپانس زیرِ مشاہدہ آیا۔ اگرچہ کچھ لوگوں میں چند تعداد میں انڈوں کا استعمال ، کولیسٹرول کی سطح بڑھا سکتا ہےلیکن وہ خراب کولیسٹرول کو چھوٹے ذرات میں تبدیل کردیتی ہے۔ ایسے افراد جن میں زیادہ تر ایچ ڈی ایل کولیسٹرول پایا جاتا ہے، ان میں دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے ماہرین متفق ہیں کہ صحت مند لوگوں کےلیے روزانہ 2سے 3انڈوں کا استعمال بالکل محفوظ ہے۔

کتنی تعداد نقصان دہ ہے؟

انڈوںکے استعمال پر کی جانے والی تحقیق میں شرکاء کو 3سے زائد انڈے نہیں کھلائے گئے ،لہٰذا اس سے زائد انڈوں کا استعمال صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تمام انڈے ایک جیسے نہیں ہوتے کیوں کہ مارکیٹس میں فروخت کیے جانے والے انڈے زیادہ ترفیکٹریز میں پلنے والی مرغیوں کے ہوتے ہیںجنہیں اناج پر مبنی فیڈ دی جاتی ہے۔

Source-

Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: