کیا آپ جو کے پانی کے یہ حیران کن فوائد جانتے ہیں؟

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 11:16:00 PM -
  • 0 comments


 تاریخ کے ماہرین کے مطابق ’جو‘ پہلا اناج ہے جو انسان نے تقریباً دس ہزار سال پہلے کاشت کرنا شروع کیا اور آج ’جو‘ دنیا کی پانچویں بڑی فصل ہے جسے ساری دنیا میں کاشت کیا جاتا ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر اس کی کاشت کی وجہ اس اناج کی بے پناہ افادیت ہے۔

جو کا استعمال بطور خوراک کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے، مگر جَو کا پانی بھی ہماری صحت کے لیے بہترین ہے، آئیے جانتے ہیں کہ یہ ہماری صحت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔

جو کا پانی مشروبات کا بادشاہ ہےاور اس میں صحت کے لیے بے شمار فائدے ہیں کیونکہ یہ نیوٹریشنز سے بھرپور ڈرنک ہے، خاص طور پر اس میں سلوبل اور نان سلوبل فائبر کی ایک بڑی مقدار کے علاوہ بیشمار منرلز (کیلشیم ، آئرن، مگنیشیم، میگنیز، زنک، کاپر) وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور بہت سے وٹامنز کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈینٹس اور پائتھو کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جو دل کی بیماریوں اور شوگر کی بیماری میں انتہائی مفید ہوتے ہیں۔

جسم سے فالتو مادوں کا اخراج

جو کے پانی کا روزانہ استعمال ہمارے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے اور یہ ہماری آنتوں کی صفائی کرتا ہے۔ جو کے پانی میں ایک خاص قسم کی شوگر (بیٹا گلوکین) شامل ہوتی ہے جو ہمارے جسم کے اندرونی نظام کے فاضل مادوں کی صفائی کر دیتی ہے۔

نظام ہضم درست کرتا ہے

جو کے پانی میں شامل سلوبل اور نان سلوبل فائبر خوراک کو ہضم کرنے اور فُضلے کی مقدار بڑھا کر اُسے خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ڈائریا اور قبض کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرولیٹس کا بیلنس ٹھیک کر کے نظام میں موجود انفیکشن کو ختم کرتا ہے۔

وزن کم کرتا ہے

بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنے لیےجو کا پانی اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں دو قسم کی فائبر موجود ہوتی ہے اور یہ فائبر ہمارے معدے کو بھرا رکھتی ہے جس سے ہم بار بار بھوک لگنے کی شکایت سے بچے رہتے ہیں، یہ ہمارے جسم کی چربی کو پگھلاتی ہے اور خوراک کو جلد ہضم کرتی ہے۔

کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کنٹرول کرتا ہے

جو کے پانی میں شامل فائبر اور بیٹا گلوکین بڑھے ہوئے کولیسٹرول کو کم کرنے کے علاوہ خوراک سے شوگر کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے اور ٹائپ 2 کے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے، جو کے پانی میں ایسے کیمیا شامل ہیں جو ہمارے جسم کے درجہ حرارت کونارمل کرتے ہیں اور ہمارے دل کو مضبوط اور توانا کرتے ہیں۔

ڈپریشن ختم کرتا ہے

جسم میں غم اور اُداسی پیدا کرنے والے ہارمونز کی مقدار بڑھنے کی صورت میں ہم ذہنی تناؤ اور پریشانی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جو کا پانی ان بڑھے ہُوئے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور ہماری طبیعت کو خوشگوار بناتا ہے۔

جسم میں بیماریوں سے لڑنے کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے

اگر ہم جَو کے پانی کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں تو جو کے پانی میں شامل قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس اور نیوٹریشنز ہمارے جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں اور اسے بیماریوں سے لڑنے کی قوت عطا کرتے ہیں اور جراثیموں کو انفیکشن پیدا نہیں کرنے دیتے۔

ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے

جو کے پانی میں شامل وٹامنز اور منرلز خاص طور پر مگینشیم ، فاسفورس، کیلشیم اور کاپر وغیرہ ہماری ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو کے جوس میں دودھ سے 11 گنا زیادہ کیلشیم ہوتی ہے جو ہماری ہڈیوں کے لیے انتہائی مُفید ہے۔

حاملہ خواتین کے انتہائی مفید

جو کے پانی کے طاقتور اجزا حاملہ خواتین کی صحت پر انتہائی اچھے اثرات پیدا کرتے ہیں، یہ جہاں خوراک کو جلد ہضم کر دیتا ہے وہاں حاملہ خواتین میں نہار منہ طبیعت کی خرابی پیدا نہیں ہونے دیتا اور اُن کا موڈ خوشگوار رکھتا ہے جو کہ ماں اور پیدا ہونے والے بچے دونوں کے لیے ہی انتہائی ضروری ہے۔

جلد کے لیے انتہائی مفید

جو کے پانی میں شامل زنک ہماری جلد کے زخموں کو جلد بھرنے میں انتہائی کارآمد منرل ہے اور اس میں شامل سلینیم ہماری جلد کی لچک بہتر بناتا ہے اور جلد کو صحت مند اور جوان رکھتا ہے اور چونکہ جو کے پانی میں اینٹی اینفلامیٹری خوبیاں ہوتی ہیں لہذا اگر اس کے پانی کو چہرے پر لگایا جائے تو یہ جہاں چہرے کے داغ دھبے اور کیل مہا سے ختم کرنے میں مدد کرتا ہے وہاں رنگت کو صاف بناتا ہے اور گورا کرتا ہے۔

بالوں کو صحت مند اور لمبا کرتا ہے

جو کے پانی میں شامل آئرن اور کاپر جہاں انیمیا کو ٹھیک کرتے ہیں وہاں یہ خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتے ہیں جس سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے، یہ ہمارے جسم میں ایک کیمیا میلانین پیدا کرتا ہے جو بالوں کی اُڑی ہوئی رنگت کو ٹھیک کر کے بالوں کا قدرتی رنگ واپس لیکر آتا ہے۔

جو کا پانی بنانے کا طریقہ:

جو کی مقدار سے پانچ گنا زیادہ مقدار پانی لے کر اُس پانی میں جو بگھو دیں اور پھر اسے پکائیں حتی کہ پانی کی مقدار تین گنا رہ جائے اور پھر استعمال کریں۔

اس کے علاوہ جو کی مقدار سے 15 گنا زیادہ پانی ڈالیں اور پھر اس کو پکائیں حتی کے پانی کی مقدار 66.7 فیصد رہ جائے پھر استعمال کریں۔

برصغیر پاک و ہند میں استعمال ہونے والا صدیوں پرانا طریقہ:

جو ¼ کپ لیکر اس میں چار کپ پانی ڈالیں اور اسے جوش آنے تک پکائیں پھر اس میں ایک چٹکی نمک شامل کریں اور دھیمی آنچ پر آدھا گھنٹا پکنے دیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چمچ سے پانی کو ہلائیں اور جو کو دبائیں تاکہ اُس کے تمام اجزا پانی میں شامل ہوجائیں۔

پھر اسے آنچ سے اُتار کر چھان کراس میں تھوڑا سا شہد اور لیموں شامل کریں اور ٹھنڈا کر کے پی لیں جو کے پانی میں حسب پسند دار چینی، ادرک اور زیرہ وغیرہ بھی شامل کرکے اس کی افادیت اور ذائقے میں اضافہ کر سکتے ہیں جو کے پانی کے فائدے حاصل کرنے کے لیے اسے روزانہ استعمال کریں۔

Source-


Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: