گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو13نکات پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی 16 مارچ 20

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 6:50:00 AM -
  • 0 comments
FATF نے گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستان کوجون تک مندرجہ ذیل 13 اہم نکات پر عمل درآمد کر نے کی ہدایت کی ہے-
1- دہشت گردوں کی مالی معاونت  ختم کرنے کیلئے اقدامات اور پابندیوں کے مئوثر ہونے کا مظاہرہ کرنا ہوگا-
2- مالیاتی اداروں کی جانب سے دہشت گردوں با لخصوص کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت روکنے کے مئوثر ہونے کا مظاہرہ کرنا ہوگا-
3-غیر قانونی منی ٹرانسفر یا ویلیو ٹرانسفر سروسز جیسا کہ ہنڈی یا حوالہ کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی-
4- نقد رقم کی نقل و حرکت روکنے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے-
5 قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کالعدم تنظیموں اور اور افراد کے خلاف کاروائیوں کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا (جن کی لسٹ پاکستان کو دے دی گئی ہے)-
6 - پاکستانی حکام کو یقینی بنانا ہوگا کہ کالعدم تنظیموں اور افراد کے خلاف کاروائی کے معاملے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے-
7 - دہشت گردی کیلئے مالی معاونت کی تحقیقات کیلئے ملکی سطح پر فنانشل مارکیٹنگ یونٹ  (ایف ، ایم، یو) قائم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مئوثر بنانا ہوگا-
8 - کا لعدم تنظیموں اور افراد ( جن کی لسٹ پاکستان کو مہیا کی گئی ہے) کے خلاف کاروائی کرنا ہوگی-
9 - کالعدم تنظیموں اورافراد کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے-
10 - کالعدم تنظیموں اور اداروں کی جائدادیں اور اثاثے ضبط کرنا ہوں گے-
11 - مدرسوں کو سرکاری تحویل میں اسکولوں ہیلتھ یونٹس میں تبدیل کرنا ہوگا (فیرست پاکستان کو دی جا چکی ہے)-
12- کالعدم تنظیموں اور افراد کی فنڈنگ بند کرانا ہوگی -
13-مستقل طور پر پاکستان کو ایسا میکنزم قائم کرنا ہوگا جس کے ذریعے کالعدم تنظیموں اور افراد کی  جائدادوں اور اثاثوں کا انتظام و انصرام سنبھالا جا سکے -
ای اے ٹی ایف نے مجموعی طور پر پاکستان 27 نکات جون 2018 میں دیئے تھے جن میں 14 نکات پر مکمل طور پر عمل درآد ہو چکا ہے-

Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: