شرمسار شرمسار احتجاج- 8 اگست 2019

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 2:09:00 AM -
  • 0 comments
8 اگست کو متحدہ اپوزیشن نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف احتجاج تو کیا مگر  شرمسار شرمسار ۔ متحدہ اپوزیشن کے قافلے کے سالار جناب شاہباز شریف کو موسم کی خرابی نے احتجاج میں شریک ہونے سے بچا لیا۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کے علاوہ محمود خان اچکزئی بھی اس احتجاج میں شریک نہیں تھے۔ احتجاجی شو کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاتھا کہ احتجاج کے شرکائ  کسی واضح مقصد کیلئےمکمل طور پریکسو نہیں تھے صرف کاروائی ڈال رہے تھے۔ 
شرکائ کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ اتنی جماعتیں ملکر بھی چند ہزار افراد جمع کرنے میں ناکام رہیں۔ اس احتجاج کوعوامی پزیرائی بالکل حاصل نہیں ہوئی۔
 اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہر الیکشن کے بعد معمول بن گیا ہے جو پارٹی یا امید وار جیت جاتے ہیں ان کیلئے تو الیکشن قابلِ قبول ہو جاتا ہے، اور جو پارٹی یا امید وار ہار جاتے ہیں انہیں ہر طرف دھاندلی ہی دھاندلی نظر آتی ہے۔ جو لوگ متحدہ اپوزیشن کی شکل بنا کر احتجاج کر رہے تھے 2013 کے انتخابات میں یہ الیکشن سے مطمئن تھے لیکن جو آج  الیکشن کو منصفانہ قرار دے رہے ہیں وہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچارہے تھے۔ ہارنے والوں کی طرف سے دھاندلی کے الزامات اور الیکشن پراسز کے خلاف احتجاج  ایک معمول اور روٹین بن گئی ہے ۔ 
ہمارے ملک میں بہت کم لوگوں میں اخلاقی جرائت ہے کہ وہ کھلے دل سے الیکشن میں اپنی شکست کو تسلیم کر لیں ۔ جن امیدواروں کی ضمانت  ضبط ہوجاتی ہے وہ بھی بڑی ڈھٹائی سے کہتے  ہیں جناب ہم ہارے نہیں ہمیں ہروایا گیا ہے۔اسلیئے ایسے کسی احتجاج کو عوامی حمایت  حاصل نہیں ہوتی۔ 
جو لوگ آج الیکشن میں شکست کھانے کے بعد دھاندلی کے الزامات لگا کر احتجاج کر رہے تھے ان میں سے اکثر لوگ کئی کئی بار الیکشن جیت کر خود تو اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں لیکن عام لوگوں کی بہتری اور پاکستان کیلئے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ احتجاج کی کاروائی تو ڈال رہے تھے لیکن شرمسار شرمسار۔
عوام سیاسی قیادت سے بے زار ہو چکے ہیں اسلیئے یہ  جیتیں یاوہ جیتیں یا فوجی حکومت آجائے عوام کی بلا سے۔ 
جس طرح پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو اقتدار ملتا رہا ہے اسی طرح تحریکِ انصاف بھی اقتدار حاصل کرنے جارہی ہے۔اگر احتجاج کرنے والے خالص عوامی حمایت سے شفاف انتخابات کے ذریعے اقتدار حاصل کرتے رہے ہیں تو پھر تو احتجاج کا حق بنتا ہے اگر آپ بھی دگڑ مگڑ سے اقتدار حاصل کرتے رہے ہیں توپھر تحریکِ انصاف کو بھی باری لینے دیں تاکہ عوام دیکھ لیں کہ تبدیلی کانعرہ لگانے والی یہ پارٹی عوام اور پاکستان کے ساتھ  کیا سلوک کرتی ہے۔




Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: