غریٹ ٹریجڈی کے عنوان سے بھٹو نے مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے پر کتاب تحریر کی

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 1:00:00 AM -
  • 0 comments
مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے پر ذوالفقار علی بھٹو نے انگریزی میں ’’ گریٹ ٹریجڈی‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھی جس کا اردو ترجمہ ’’ عظیم المیہ‘‘ کے عنوان سے کیا گیا جس میں اُنہوں نے بنگلہ دیش کے بننے کی وجوہات اور سازشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ بھٹو وسیع مطالعے اور سیاست میں قومی اور عالمی حالات کے مطابق تخلیقی سوچ کے ساتھ وقت کے دھارے کو اپنے قومی مفاد میں موڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں دولت، جائیداد، خاندانی پس منظر اور اچھی شکل وصورت کے ساتھ دلکش شخصیت سے نوازا تھا ، ہاں وہ بھوکے اور یا لالچی تھے تو شہرت کے تھے اُن کو اس کی ہوس تھی کہ وہ عالمی سطح کی تاریخی شخصیت بن جائیں، جس کے لیے اُنہوں نے نہایت تیز رفتاری سے خصوصاً 1967 میں پیپلز پارٹی کو تشکیل دے کر سفر شروع کیا، اور جو تصورات اُنہوں نے اپنے ذہن میں بنائے تھے اُن کا تقریباً ساٹھ فیصد اُنہوں نے جولائی1977 تک حاصل کر لیا تھا۔اب مارشل لاء کے نفاذ کے بعد وہ اقتدار سے بے دخل کر دیئے گئے۔
اقتدار سے بے دخلی کے وقت اُنہوں نے یہ کہا کہ اُنہیں اقتدار کا کوئی لالچ نہیں لیکن یہ بتا دوں کہ اِس وقت پاکستان کو میری بہت زیادہ ضرورت ہے۔ وہ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا ادراک کر چکے تھے، لیکن ایسا نہیں ہوا اور وقت نے اس بار جو دھارا بدلا اُس کو موڑنا اُن کے اختیار اور قوت سے باہر تھا۔
عظیم المیے کے بعد بھٹو اقتدار میں آئے اور جب 3 جولائی 1972 کو بھارت سے شملہ معاہدہ کر لیا تو یہ اس اعتبار سے بھی بہت اچھا تھا کہ اُنہیں دوسرے قومی اور بین الا قوامی معاملات میں کام کرنے کے لیے وقت مل گیا، 1973 میں انہوں نے ملک کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ سے کامیا ب مشاورت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لیے ایک ایسا پارلیمانی آئین بنایا جو ملک کی تمام جماعتوںکو قبول تھا، وہ ملک میں 1973 کا آئین نافذ کر چکے تھے کہ 6 اکتو بر تا 25 اکتوبر 1973 چوتھی عرب اسرائیل جنگ ہوئی جس میں بنیادی طور پر اسرائیل کے مقابلے میں مصر اور شام تھے، سابق سوویت یو نین، سعودی عرب، اردن، عراق، تیونس، لیبیا، الجیریا، مراکش اور کیوبا نے اِن کی مدد کی، اس عرب اسرائیل جنگ سے قبل یہاں پہلی جنگ جولائی 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت ہوئی تھی جس میں عرب ملکوں کو ہی نقصان ہوا تھا۔
دوسری جنگ 1956ء میں ہوئی جب علاقے میں جمال ناصر کی جانب سے عرب نیشنل ازم کا ڈنکا بجتا تھا، اس جنگ میں مصر نے اصفان ڈیم کی تعمیر پر فنڈز روکنے کے ردعمل میں نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا اور ردعمل میں برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کر دیا تھا، اس موقع پر نہ صرف روس نے براہ راست مداخلت کی دھمکی دے دی تھی بلکہ امریکہ غیر جانبدار رہا تھا اورکسی حد تک مصر کی وکالت کی تھی۔ تیسری جنگ1967ء میں ہوئی تھی جس میں عربوں کو شکست ہوئی تھی۔
1973 کی جنگ میں امریکہ اعلانیہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا تھا، اگرچہ مغربی یورپ کے بیشتر ملک اسرائیل کے ساتھ تھے لیکن اس کا اعلان نہیں کیا تھا، مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نے نہ صرف اپنے محدو وسائل سے بڑھ کر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں عرب ممالک کی مدد کی تھی اور بھٹو کی پیش گوئی درست ثابت ہوئی تھی کہ ترقی پذیر اور پسماندہ ملکوں کے درمیان لڑی جانے والی آخری روایتی جنگ 1971 کی پاک بھارت جنگ تھی کیونکہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں مصر نے روسی ساخت کے 600 کلومیٹر دور مار کرنے وا لے سام میزائل استعمال کئے تھے جب کہ اسرائیل نے امریکی طرز کے میزائل استعمال کئے تھے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اگر چہ امریکہ اور روس میزائل ٹیکنالو جی میں کا فی آگے آگئے تھے اور پچاس کی دہائی میں میزائل سازی شروع ہو گئی تھی اور ساٹھ کی دہا ئی کے آغاز میں جب روس اور امریکہ خلا میں سیٹلائٹ چھوڑ چکے تھے تو ترکی میں قائم نیٹو کے اڈوں سے ماسکو سمیت سوویت یونین کے کئی شہر امریکی میزائلو ں کی زد میں تھے اور پھر اس دور میں کیوبا میزائل بحران نے بھی جنم لیا تھا جس کی وجہ سے دنیا میں ایٹمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، بھٹو نے اقتدار میں آتے ہی ملک میں میزائل ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا اور جلد پاکستان اس شعبے میں بھارت سے بازی لے گیا اور یہ برتری اب تک قائم ہے۔
یہ عرب اسرائیل جنگ ایسی جنگ تھی جس میں اگرچہ مصر اور شام نے کوئی بڑی فتح حاصل نہیں کی تھی مگر شکست بھی نہیں کھائی تھی اور یہ امریکہ کے ساتھ سوویت یونین کے لیے بھی قدرے فکر مندی کی بات تھی کیونکہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے اہم موقع پر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی ممالک کے درمیان باوجود بعض اختلافات کے اِن میں کامیابی کے ساتھ اتفاق قائم کر دیا اور پہلی مرتبہ مشرقِ وسطٰی اور دیگر اسلامی ملکوں میں وہ ممالک جہاں بادشاہتیں تھیں اور وہ سوویت یونین کے خلاف اور امریکہ کے نزد یک تھے، اور وہ مسلم آبادی کے ممالک جہاں قائم حکومتوں کی قربت سابق سوویت یونین سے تھی اور وہ نظریاتی طور پر سوشلزم کو اپناتے ہوئے اسلامی ملکوں میں بادشاہتوں کے خلاف تھے۔
اِ ن میں سے بیشتر کے سر براہان کو لاہور میں 1974 میں منعقد ہونے والی اسلامی سر براہ کانفرنس میں اکٹھا کر دیا، یہ بھٹو کی طلسماتی شخصیت کا کمال تھا۔ سرد جنگ کا یہ دور بہت ہی خطرناک تھا، اُس وقت تک امریکہ کے اعتبار سے اسلامی نظریات کے حامل اسلامی ملکوں میں جہاں نیم جمہورتیں ،آمریتیں اور بادشاہتیں تھیں، وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر اس لیے اعتماد کرتے تھے کہ وہ مذاہب کو مانتے ہیں، حالانکہ عملی طور پر ان کے ہاں اس اعتبار سے اخلاقیات تقریباً ختم ہو چکی ہیں، جب کہ سوویت یونین اشتراکی نظریات کے سبب مذہب کو اشتراکیت کا دشمن تصور کرتا تھا۔
یوں 1974 میں لاہور میں منعقد ہونے والی کانفرنس امریکہ اور سوویت یونین دونوں کو پسند نہیں تھی کیونکہ اس کے سبب متضاد نظام اورنظریات رکھنے والے ممالک کے درمیان اس لحاظ سے اتفاق قائم ہو رہا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے تصادم کے بجائے ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور مشترکہ طور پرتجارت ، صنعت، زراعت اور دیگر شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے اور خصوصاً مغرب کے مقابلے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں واقع فرق کوختم کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے ترقی کے اعتبار سے قائم اس فرق کو دور کر یں گے۔
1973 کی اس جنگ کے بعد جب تیل کو روک کر اس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو اس سے ایک جانب تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی آمدنیوں میں دس گنا تک اضافے کی وجہ سے ان ملکوں میں تیز رفتار تعمیراتی کام شروع ہوئے تو ساتھ ہی اں ملکوں میں پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر اورپسما ندہ اسلامی ملکوں سے افرادی قوت کی بڑی مانگ شروع ہوئی اور ان میں سرفہرست پاکستان تھا جس سے بھٹو دور میں ملک کی تقریباً چھ کروڑ ،آبادی میں سے35 لا کھ افراد بیرون ِ ملک کام کرنے چلے گئے، جہاں اُ ن کو ملک کے مقابلے میں آٹھ سے دس گنا زیادہ اجرت ملنے لگی۔
اس سے پاکستان تین انداز سے تبدیل ہوا، بھارت سے جنگ ہارنے اور بنگلہ دیش کے بن جانے کی وجہ سے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہوتی مگر ایک دم سے معاشی حوشحالی آئی، ان 35 لاکھ افراد نے جب ملک میں اپنے گھر وں کو ماہانہ رقوم بھیجنی شروع کیں تو پا کستان کے پاس زرمبادلہ کا فوراً ایک مستقل اور مستحکم ذریعہ ہاتھ آگیا اور ملک امریکی امداد اور عالمی مالیاتی اداروں کی محتاجی اور دبائو سے آزاد ہو گیا۔
اُس وقت پاکستانی روپے کی قیمت بنگلہ دیش کے مقابلے میں بیس گنا زیادہ ہوئی یعنی 20 ٹکے کا ایک پاکستانی روپیہ ہوا اور بھارت کی کرنسی کے مقابلے میں بھی پاکستانی کرنسی کی قیمت زیادہ ہوئی، اس معاشی استحکام نے بھٹو کوآزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اعتماد عطا کیا ، جب کہ ملک میں سماجی طور پر مثبت معاشی تبدیلی نے سماجی تضاد کو اس لیے جنم دیا کہ یہ معاشی تبد یلی اچانک رونما ہوئی تھی، بھٹو کی غلطی یہ تھی کہ وہ اس کے ردعمل کا ٹھیک طور سے ادراک نہ کر سکے اور سماجی ارتقائی عمل میں اس تبدیلی کے اثر کو معاشرتی ضرورت کے مطابق پائیدار بنیادوں پر ملکی ترقی کے لیے استعمال نہیں کر سکے۔
آمدنیوں میں اضافے کی وجہ سے عام آدمی کی اچانک قوت خرید بڑھنے سے جہاں غریب ، متوسط، اعلیٰ متوسط اور امیروں کے درمیان روایتی ا قدار کے رشتے پامال ہوئے وہاں 35 لاکھ نوجوانوں کے ملک سے باہر جانے سے بھی معاشرتی تکریم اور حرمت کا معیار تنزل کی طرف جانے لگا۔ اگرچہ بھٹو خود بھی سیاسی دانشور تھے اور اُن کی کابینہ میں مبشر حسین، حنیف رامے ،معراج خالد،حفیظ پیرزادہ اور بہت سے اہل دانش تھے مگر وہ پاکستان میں اقتصادی خوشحالی کی صورتحال میں منفی نوعیت کی سماجی تبدیلی کے اس پہلو سے واقف نہیں تھے جن کی وجہ سے سماج کی اخلاقی ، تہذیبی بُنت کمزور ہوتی ہے۔
یوں 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کو بھٹو نے بہت خوبی سے اسلامی بلاک کی تشکیل کے لیے استعمال کیا۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال نے بھارتی وزیر اعظم کو بھی بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ایک لکیر سے آگے بڑھنے نہیں دیا مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اس کے بعد سابق سوویت یونین اور امریکہ دونوں ہی اپنے اپنے طور پر نئے انداز کی ایسی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہو گئے جن کی وجہ سے اچانک اور فوری طور پر ابھرنے والے اسلامی بلاک کی روک تھام کی جائے، 1973 ہی وہ سال تھا جب افغانستان میں 40 سال سے مستحکم انداز میں حکومت کرنے والے بادشاہ ظاہر شاہ کا تخت اُن ہی کے قریبی رشتہ دار سردار دائود نے الٹ دیا اور خود ملک کے پہلے صدر بن گئے۔
یہ تبدیلی بڑی اچانک تھی جس سے پاکستان کو اُس وقت قدرے مشکل کا سامنا کرنا پڑ ا کیو نکہ بھٹو نے بلوچستان میں وزیر اعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل کی نیپ اور جمعیت علما اسلام کی پہلی منتخب ، مخلوط حکومت کو بر طرف کر دیا جس کے ردعمل میں خیبر پختونخوا میں جمعیت علما اسلام کے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں قائم نیپ اور جمعیت علما اسلام کی مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود نے استعفیٰ دے دیا اور نیپ کے بہت سے لیڈر اور کارکن افغانستان چلے گئے اور بلوچستان میں مزاحمت بھی شروع ہوئی۔
جب کہ بھٹو نے نواب خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو، سردار عطا اللہ مینگل اور خان عبدالولی خان کو جیل بھیج کر اِن پر مقدمات قائم کر دئیے۔ 1974ء میں جہاں ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کر وا کے عالمی سطح پر اپنی لیڈر شپ کو مناتے ہوئے پاکستان کو سیاسی ، اقتصادی اور دفاعی طور پر مضبوط کر دیا تھا، وہاں اسی سال بھا رت نے پاکستانی سرحد تھرپارکر کے دوسری طرف راجستھان کے علاقے پوکرن میں اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کردیا اور یوں ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا۔ اگرچہ ایوب خان ہی کے زمانے میں جب بھارت نے ابتدائی طور پر اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا تو صدر جنرل ایوب خان نے بھی ملک میں ایٹمی تحقیق کا ادارہ قائم کر دیا تھا۔
بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب میں بھٹو نے قوم سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ہم گھاس کھائیں گے لیکن اپنے دفاع کے لیے ایٹم بم ضرور بنائیں گے اور پھر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر منیر کی سربراہی میں تیز رفتاری سے کام شروع ہوا جس کے لیے لیبیا کے صدر کرنل قدافی نے بہت مالی مدد کی، اور پھر اس مشن کو جلد ہی پاکستان کے معروف سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان نے جو اُس وقت جوان تھے اپنے ہاتھ میں لے لیا، افغانستان میں شاہ ظاہر شاہ کے بعد صدر سردار دائود کی حکومت کے آتے ہی بھٹو کے لیے قدرے پریشانی کھڑی کردی گئی تھی کیونکہ بلوچستان میں پہاڑوں پر سے جو مسلح کاروائیاں بھٹو حکومت کی جانب سے مینگل حکومت کی برطرفی کے بعد شروع ہو ئی تھیں۔
اُس پر بھٹو نے ایران کے شہنشاہ رضا شاہ پہلوی کو اس طرح بتایا تھا کہ یہ سلسلہ ایرانی بلوچستان اور سیستان تک پھیلتا جائے گا اور اس پر فوری طور پر شہنشاہ کی کی جڑواں بہن شہزادی اشرف پہلوی نے دورہ کیا تھا اور پاکستان کو امداد بھی دی تھی اور بعد میں شہنشاہ ایران نے بھی پاکستان کا دورہ کیا تھا ، پر سردار دائود کے بعد افغانستان کی طرف سے صورتحال بدل گئی تھی، مگر اسلامی کانفرنس کے بعد بھٹو اور سردار دائود کے درمیان ملاقات ہوئی اور بات چیت کے ذریعے دونوں ملکوں کے معلامات کو حل کرنے کی تجاویز بھی زیرغور آئیں۔ جب کہ 1975میں بنگلہ دیش کے صدر شیخ مجیب الرحمن کو فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا۔
یہ بھارت اور اندراگاندھی کے لیے کو ئی اچھی صورت نہیں تھی،کیونکہ بنگلہ دیش میں جو تبدیلی بھارت نے تین سال قبل ایک بڑی مہنگی جنگ کے بعد کی تھی وہ اب بھارت کے حق میں نہیں رہی تھی بلکہ کسی حد تک بھارت مخالف ہو رہی تھی، اندرا گاندھی نے 1971 کی جنگ میں بظاہر 1947-48 اور1965 کی جنگوںکی شکست کا بدلہ پاکستان سے لیا تھا اور دفاعی اور عسکری لحاظ سے دنیا میں بھارت کی ساکھ کو بحال کیا تھا، اور وہ بھارت کی ہیرو بن گئیں تھیں، کہ بھارت نے پہلی مرتبہ کسی جنگ میں فتح حاصل کی تھی مگر اب تین سال بعد ہی بنگلہ دیش میںہونے والی تبدیلی کی وجہ سے اُن کی پالیسیوں پر بھارت سمیت پوری دنیا میں تنقید ہونے لگی تھی اور اُن کی شہرت کا گراف نیچے آرہا تھا۔
اندرا گاندھی نے جب بنگلہ دیش کی علیحدگی کے لیے 1966 ء سے ایک بڑے منصوبے کے تحت پاکستان کے خلا ف سازش شروع کی تھی تو وہ یہ بھول گئی تھیں کہ اگر مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن کر پاکستان سے ٹوٹ جاتا ہے تو اس سے علاقے میں علیحدگی پسند تحریکوں کو حوصلہ ملے گا جس کے رجحانات بھارت میں کہیں زیادہ موجود ہیں دوسری اہم بات یہ تھی کہ اگر بھارت مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کی بجائے کم خرچ پر یہاں مستقل طور پر سیاسی بحران پیدا کرتا رہتا تو اس سے پاکستا ن رفتہ رفتہ بہت کمزور ہو جاتا، جبکہ بنگلہ دیش کے بعد پاکستان دنیا کے بدلتے حالات سے فائد ہ اٹھاتے ہوئے زیادہ مضبوط اور اہم ملک بن گیا، اور اب اگر بھارت سے پاکستان کی جنگ ہوتی تو صورتحال بدل چکی تھی کیونکہ اُسے مشرقی پاکستان جس کے درمیان ایک ہزار میل بھارت کے حائل ہونے والے محاذ سے فرصت مل گئی تھی، اور پاکستان کی فوجی قوت 1971 کے مقابلے میں زیادہ ہو گئی تھی۔
1975 میں بھٹو اپنے ایک زبردست دوست شاہ فیصل سے اُس وقت محروم ہو گئے جب25 مارچ 1975 کو شاہ فیصل کو قتل کر دیا گیا، یہ وہ شاہ فیصل تھے جنہوں نے دسمبر1971 کی جنگ کے صرف ایک ماہ بعد لیبیا کے صدر کرنل قدافی کی طرح دل کھو ل کر پاکستان کی مالی مدد کی تھی اور پا کستان کو فوراً مالیا تی، اقتصادی طور پر مستحکم کر دیا تھا پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں امریکہ کی ناراضی کا یکسر خیال نہ کرتے ہو ئے مصر اورشام کا ساتھ دیا تھا، اُنہوں نے فلسطین کے موقف پر عربوں کو یک جا کرنے میں اپنا خاص کردار ادا کیا تھا، وہ بھٹو کی دعوت پر اسلامی سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے تھے اور اسلامی اتحاد کی حمایت کی تھی اور دنیا میں اسلامی ملکوں کے اتحاد پر امن ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں سے اتفاق کیا تھا، یوں شاہ فیصل کی شہادت کا ذوالفقار علی بھٹو کو بہت دکھ ہوا تھا۔
بھٹو کی شاہ فیصل سے عقیدت و محبت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے لاہور میں قدافی سے تعلق کی بنیاد ایک اسٹیڈیم تعمیر کروایا جسے قدافی اسٹیدیم کہتے ہیں تو شاہ فیصل کے نام پر صنعتی طور پر اہم اور آبادی کے اعتبار سے ملک کے تیسرے بڑے شہر لائل پور کا نام شاہ فیصل کے نام پر رکھ دیا تھا، یوں 1972 سے 1975 تک صرف چار برسوں میں نہایت تیز رفتاری سے دنیا سرد جنگ کے لحاظ سے تبدیل ہو رہی تھی، بھٹو کی نظریں دیکھ رہی تھیں کہ مستقبل قریب میں سوویت یونین اور اس کا وارسا گروپ اور امریکہ اپنے دوست ممالک کے ساتھ کن کن محاذوں پر اور کس طرح اپنی منصوبہ بندی اور حکمت عملی اختیار کر یں گے۔
اگر چہ بھٹو دولت مشترکہ سے علیحدگی کے بعد ایک غیر جانبدارانہ ملک کے طور پر پاکستان کا دنیا بھر میں اعتماد بحال کر کے سوویت یونین کے قریب آگئے تھے اور یہ تعلقات اتنے بہتر ہوئے تھے کہ سوویت یونین نے کراچی میں اسٹیل مل کے قیام کے ساتھ دیگر بہت سے شعبوں میں پاکستان سے تعاون کیا تھا، اور 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کے تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال سے بھی سوویت یونین کو عالمی سطح پر سرد جنگ کے حوالے سے فائد ہ ہوا تھا مگراُس کے لیے یہ فکرمند ی کی بات تھی کہ وہ اسلامی ممالک جو سوویت یونین کے نظریات کے ہم رکاب تھے وہ اشتراکی مخالف اسلامی ملکوں سے مفاہمت کر بیٹھے تھے، اس مفاہمت سے روس کو نظریاتی اعتبار سے شکست ہوئی تھی، سوویت یونین کو اُن غریب، پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں میں نظریاتی اعتبار سے مشکلا ت کا بہت کم سامنا کرنا پڑتا تھا۔
جہاں آبادی کا مذہب اسلام نہیں تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اُس نے 1930 کے بعد اور پھر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے1945 کے بعد بڑی مشکل سے سنٹرل ایشیا کی مسلم آبادی کی ریا ستوں ازبکستان،کر غیزستان، تاجکستان، آذر بائیجان، ترکمانستان اور قازقستان پر اشتراکیت کو مسلط کیا تھا مگر اس کے باوجود سوویت یونین کو وہاں اسلامی عبادات کے لحاظ سے کفن دفن شادی بیاہ کے اخلاقی قوانین کے اعتبار سے رعائتیں دینی پڑی تھیں، یوں پاکستان اگرچہ اب آزاد خارجہ پالیسی کو اپنا تے ہوئے امریکی اثر سے باہر نکل آیا تھا مگر آئینی لحاظ سے پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان تھا
جس میں اقتداراعلیٰ کا مالک صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔
اس لیے سوویت یونین پاکستان سے تعلقات میں احتیاط برتتا تھا اس کی ایک اور بنیادی وجہ سنٹرل ایشیا کی مسلم ریاستوں سے پاکستانی علاقوں کا صدیوں پرانا تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی تعلق تھا جس کے درمیان برطانیہ اور سوویت یونین نے افغانستان کو بفر اسٹیٹ ’’حائلی ریاست‘‘ بنا کر کاٹ دیا تھا، اس لیے اب سرد جنگ میں ایک جانب امریکی بلاک کو یہ کرنا تھا کہ اُس کے پرانے مسلم اتحادی ملکوں میں جہاں شخصی حکومتیں، باد شاہتیں یا نیم جمہوریتیں قائم تھیں اُن مسلم ملکوں کو دوبارہ اُن ملکوں سے دور کرنا تھا جو سوویت یونین کے قریب تھے اور ساتھ ہی اسرائیل کی وجہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں احساس تحفظ ابھرا تھا اور عوامی سطح پر لاہور کی مسلم سربراہ کانفرنس کا خیرمقدم کیا گیا تھا اس اثر کو بھی دور کرنا تھا ، ویسے بھی یہ تاریخی حقیقت ہے کہ باوجود اس کے کہ طویل عرصے سے مسلمان حکمران آپس میں لڑتے، جنگیں کرتے رہے ہیں مگر عجیب بات یہ ہے کہ عام مسلمان ہمیشہ سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ پو ری دنیا کے مسلمان اسلامی قوت کے اولین درس کے مطابق ایک ہو جائیں۔
یہ حقیقت ہے کہ 1973 کی جنگ کے بعد دنیا کی اِن بڑی قوتوں کے دونوں گروہوں نے اس اتحاد کے خلاف اپنے اپنے طور اور اپنے اپنے انداز سے کام کیا، امریکہ کے لیے یہ بہت آسان تھا کہ وہ ایسے اسلامی ملک جن کے حکمرانوں کی دولت امریکہ اور مغربی ملکوں کے بنکوں میں محفوظ تھی اور اِن کی حکمرانی کی مضبوطی میں بھی امریکی بلاک کا کردار تھا اُن کو سوویت یونین سے قربت رکھنے والے اسلامی ممالک سے دورکر دیا جائے اور یہ فوراً ہونے لگا پھر معاشرتی اعتبار سے جو اسلامی ممالک سوویت یونین کے قریب تھے اورکسی حد تک اشتراکیت کو اپنے نظام سے ہم آہنگ کر نا چاہتے تھے وہاں بھی مسلمانوں کے عقائد اتنے مضبوط تھے کہ وہ اپنے مذہب کے خلا ف کسی قسم کی پابندی یا قانون سازی برداشت نہیں کر سکتے تھے اسی طرح جہاں کہیں اسلامی ملکوں کے باشاہوں،آمروں یا نیم جمہوریت کی بنیاد پر اقتدار حاصل کرنے والے سرمایہ داروں نے امریکہ یا یورپ کی طرز ترقی کے نام پر بے حیائی، شراب نوشی اور جوئے جیسی برائیوں اور گناہوں کی سرکاری سطح پر اجازت دی وہاں جب بھی عوام کو موقع ملا تو انہوں نے ایسے حکمرانوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا ، یہ رجحان آج بھی دنیا کے تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نفسیات یعنی ماب سیکالوجی ہے۔
بھٹو نے انتخابات میں نعرہ لگایا تھا کہ اسلام ہمارا دین ہے، جمہوریت ہماری سیاست ہے، سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، اور جب 1973 کا آئین بنایا گیا تو اُنہوںنے تما م مذہبی جما عتوں سے مشاروت کی ا ور اسلامی قوانین کی بنیادوں کو شامل کیا یعنی شراب نوشی، جوئے، بے حیائی کے خاتمے کے لیے اور ملک میں قوانین کو اسلام کے مطابق بنانے کا وعدہ کیا مگر عملاً 1973سے 1977 میں جب تک اُن کے خلاف تحریک زور نہیں پکڑ گئی اُس وقت تک انہوں نے شراب پر قانونی طور پر پابندی عا ئد نہیں کی۔ جمہورت کے اعتبار سے راقم الحروف سوشل ریسرچ کی بنیاد پر عوامی رحجانات کا اندازہ بھی لگاتا رہا ہے۔
1970 میں ہو نے والے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ نے 39.2 فیصد ووٹوں کی بنیاد پر قومی اسمبلی کی160 نشستیں حاصل کی تھیں، پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان سے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 18.6% ووٹ حاصل کر کے81 نشستیں حاصل کی تھیں جب کہ جماعت اسلامی ، جمعیت علما اسلام ، جمعیت علما پاکستان نے مجموعی طور پر 14% ووٹ حاصل کئے تھے اوراگر اسلامی عقائد پر عملدآمد کرنے والی مسلم لیگ جیسی جماعتوں کے ووٹوں کے تناسب کو بھی جمع کیا جائے تو یہ شرح 28% سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
یہ زمینی حقائق تھے کہ جب1977 مارچ میں الیکشن ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں 9 جماعتوں کے اتحاد پاکستان قومی اتحاد PNA نے مشترکہ طور پر انتخاب لڑا، قومی اسمبلی کی 200 نشستوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی نے 155 نشستیں حاصل کیں اور پی ین اے نے صر ف 35 سیٹیں جیتیں، ظاہر ہے کہ ان انتخا بات میں دھاندلی ہوئی تھی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر د ھاندلی نہ ہوتی تو بھی پاکستان پیپلز پارٹی سادہ اکثریت سے حکومت بنا لیتی مگر بھٹو دو تہائی اکثریت کے ساتھ مضبوط حکومت چاہتے تھے، یوں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس کی بنیاد پر ہونے والے اتحاد کے خلاف 1977 تک مغربی قوتیں اور سوویت یونین اپنے اپنے انداز سے کاروائیاں عمل میں لاچکی تھیں۔
سعودی عرب کے شاہ فیصل کے قتل کے بعد پاکستان میں صورتحا ل بدل گئی اور پہلے 5 جولائی کو جنرل ضیاالحق نے مارشل لگا کر حالات کو کنٹرول کرنے کے ساتھ تین مہینوں میں نئے انتخابات کروانے کا اعلان کیا، اور پھر بھٹو کو گرفتار کر کے اُن پر محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ لاہور ہائی کورٹ میں چلایا گیا اور 18 مارچ 1978 کو سزائے موت دے دی۔ سپریم کورٹ نے 6 فروری 1979 کو اس سزا کو برقرار رکھا اور 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی کی جیل میں پھانسی دے دی گئی، یہاں پاکستان میں جنرل ضیا الحق کے اسلامی نظام کے نفاذ کے مراحل جاری تھے کہ ایران میں حضرت امام خمینی کے اسلامی انقلاب پر شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی 16 جنوری 1979 کو ایران سے چلے گئے اور11 فروری کوشہنشاہی ختم ہوگئی، اس کو بھی اتفاق کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے شاہ ظاہر کی طرح رضا شاہ پہلوی نے بھی ایران پر تقریباً 40 سال بادشاہت کی۔
اب ایک جانب پاکستان میں اسلامی نظام کے مراحل تھے تو دوسری جانب ایران میں، جس کی سرحدیں براہ راست سوویت یونین کی سنٹرل ایشیا کی ریاستوں سے ملتی ہیں۔ یہاں بھی اسلامی انقلاب آچکا تھا۔ یہ سرد جنگ کے اعتبار سے سوویت یونین کے لیے اہم تھا اور سوویت یونین پاکستان اور ایران میں حالات کا مطالعہ 1976-77 سے کر رہا تھا اور افغانستان جو طویل عرصے سے سوویت یونین اور پاکستان ایران کے حوالے سے بفر اسٹیٹ حائلی ریاست تھی اور یہاں عوام اسلامی اقدار پر بہت زیادہ سختی سے عمل کرتے ہیں، یہاں پر اسلامی نظام کو روکنے کے لیے روس نواز نور محمد تراکئی نے اشتراکی نظریات کی بنیاد پر صدر دائود کو قتل کیا اور 30 اپریل 1978 کو افغانستان کے صدر بن گئے اور 14ستمبر 1979 میں نور محمد تراکئی کو قتل کر دیا گیا۔ اب ایک جانب ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد صورتحال یہ تھی کہ شہنشاہ ملکوں ملکوں پھر رہے تھے اور کوئی انہیں پناہ نہیں دے رہا تھا، یہ حالت خصوصاً اس وقت پیدا ہوئی جب ایرانی طلبا نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا۔
پاکستان میں بھی جنرل ضیا الحق کی حمایت میں بہت سے علما آگئے اور اسلامی نظام کے نفاذ کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ساتھ ہی سوویت یونین نے افغانستان میں مداخلت شروع کر دی، اور افغانستان میں خونی دور شروع ہو گیا۔ سردار دائود کو خلق پارٹی کے نورمحمد تراکئی نے قتل کیا تھا اور پھر جب نور محمد تراکئی کی کارکردگی سے روس مطمین نہیں ہوا تو نور محمد تراکئی کو قتل کردیا گیا اورحفیظ اللہ امین 14ستمبر 1979 سے27 دسمبر1979 تک صدر رہے، اِن کے قتل کے بعد سوویت یونین نے ببرک کارمل کو مشرقی یورپ سے لاکر 27  دسمبر1979کو افغانستان کا صدر بنا دیا، اور پھر اُن سے روس، افغان دوستی کے تحت افغانستان میں روسی فوجیں بھیجنے کی درخواست منگوائی اور یوں دسمبر 1979 میں جدید ہتھیاروں سے لیس کثیر تعداد میں روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہو گئیں اور ان کو بڑے شہروں میں تعینات کر دیا گیا۔
1980 میں روسی فوجوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز کر گئی،1941 کے بعد روسی فوجیں کسی ملک میں براہ راست مداخلت کے لیے داخل ہوئی تھیں، واضح رہے کہ نوآبادیاتی دور میں خصوصاً نیپولین کی جنگوںکے دور میں جب نپولین فرانس کا کمانڈر انچیف تھا تو روس کے بادشاہ زار پال اوّل نے 1804 میں نیپولین کو یہ پیغام بھیجا تھا کہ وہ ہندوستان پر حملہ کرے تو روسی فوجیں افغا نستان سے ہو تی ہوئی داخل ہونگی اور اِن کی مدد کریں گی اور روس کو صرف بلوچستان کے ساحل سے غرض ہو گی، مگر ا یسا نہ ہو سکا اور پھر کچھ برس بعد نپولین نے روس پر ہی حملہ کر دیا۔
جس میں سردی کی وجہ سے اس کی 80% فوجی ہلاک ہو ئے، پہلی برٹش افغان وار 1839-42 میں ہوئی جس میں پہلے برطانیہ نے راجہ رنجیت سنگھ کی بھرپور فوجی مدد سے افغانستان پر قبضہ کر لیا تو سکھ فوجیں پنجاب واپس ہو گئیں پھر چار سال بعد افغانیوں نے موسم سرما میں 12500 فوجیوں کو قتل کرکے افغانستان آزاد کرا لیا، دوسری برطانوی افغان جنگ 1878 میں ہوئی جس میں فتح حاصل کرنے کے بعد ایک معاہدے کے تحت دفاع اور خارجہ پالیسی کے اختیارات کے عوض سا لانہ ایک سبسڈی کی رقم افغانستان کو دی جانے لگی اور یہ سلسلہ تیسری برطانوی افغان جنگ 1919 تک جاری رہا، اس کے بعد سے افغانستان آزاد رہا۔ ا
لبتہ افغانستان کی حیثیت روس اور برطانوی ہند کی دو بڑی سلطنتوں کے درمیان حائلی ریاست ’’بفر اسٹیٹ‘‘ کی رہی جس کو اب روس نے پامال کردیا تھا اور یہ اُس کی مجبوری تھی، سرد جنگ کے اس انتہاہی شدت کے دور میں یہ بات تسلیم کر لی گئی تھی کہ اگر مستقل نوعیت کی کسی لڑائی میں دشمن کو الجھا دیا جائے تو چند سال بعد اُس ملک کی معیشت ، اقتصادیات سمیت معاشرہ اور ملک تباہ ہو جا تا ہے، سویت یونین نے یہ اسٹرٹیجی اپنائی کہ کسی طرح ایران اور پاکستان میں رونما ہو نے والے اسلامی انقلابی رحجانات سے اپنی سنٹرل ایشیائی ریاستوں کو محفوظ رکھا جائے۔
یوں جب افغانستان میں روسی فوجیں د اخل ہوئیں تو بھارت جو، جولائی 1971 کے روس، بھارت معاہد ے میں شریک تھا جس میں بنگلہ دیش کو بھی اُس کے قیام کے فوراً بعد شامل کرلیا گیا تھا، اب بھارت کو بھی کسی موقع پر سوویت یونین آزما سکتا تھا، جہا ں تک تعلق پاکستان کا تھا اب اُسے اپنے دفاع کی بھی فکر تھی اور 1971 کی جنگ کے اعتبار سے بدلہ لینے کا موقع بھی تھا، یوں جب 5 جنوری1980 کو دس اسلامی ملکوںنے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روسی جارحیت کی مذ مت اور پھر اس کے بعد1981 میںجنرل اسمبلی کے ایک اجلاس میں افغانستان سے روسی فوجوںکے انخلا کے لیے ایک قرار داد 23 کے مقابلے میں 116 ووٹوں سے منظور ہوئی تو جہاں اخلاقی طور پر دنیا بھر میں روس کی پوزیشن کمزور ہوئی وہاں اب باوجود دوستی کے معاہدہ کے جس میں یہ طے تھا کہ بھارت اور روس دونوں میں سے کسی ایک پر کسی تیسرے ملک کا حملہ دونوں ملکوں پر حملہ سمجھا جائے گا، بھارت اب ہچکچاہٹ کا شکار تھا، کمیونزم برصغیر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا، امریکہ ،برطانیہ، فرانس سبھی اس کے خلا ف تھے۔
چین پاکستان کا حامی تھا، یعنی پوری دنیا روس کے مخالف تھی، مگر دوسری جانب پاکستان کو افغان مجاہدین کی مدد کرنے سے روکنے کیے سرد جنگ کے طریقہ کار کے مطابق اندرونی طور پر مسائل میں الجھایا جا رہا تھا اور اس میں بھارت اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔ یوں سرد جنگ کے اس نازک موقع پر بھارت نے پھر پاکستان کی مخالفت کی اور جب کہ بھارت میں اڑیسہ، ناگالینڈ ، پنجاب اور کشمیر میں بھی بھارت سے علیحدگی کے لیے کاروائیاں شروع ہو گئیں، جس پر بھارت نے پاکستان کے خلا ف زور وشور سے پر وپیگنڈا شروع کیا بد قسمتی دیکھئے کہ امریکہ نے اُس وقت بھی بھارت کو اہمیت دی، پاکستان کے لیے افغانستان کی جنگ ایک بڑی جنگ تھی جس میں پاکستان فرنٹ لا ئن کا ملک بن گیا تھا پاکستان کی فوج افغان مجاہدین کو ٹرینگ دے رہی تھی اور ساتھ ہی پاکستان نے 35 لاکھ افغان مہاجر ین کو اپنے ہاں پناہ دے دی۔
بدقسمتی سے جس طرح بھٹو دور میں پاکستان سے35 لاکھ افراد مشرق وسطٰی اور تیل پید ا کر نے والے ملکوں میں ملازمتوں کے لیے جانے سے جو معاشرتی تبدیلیاں رونما ہونی تھیں اس پر بھٹو حکومت نے سوشل سائنٹسٹز کی مدد سے کوئی منصوبہ نہیں بنایا جس سے معاشرہ اس کے مضر اثرات سے بچ جاتا، اسی طرح بدقسمتی سے نہ تو ضیاالحق کی حکومت نے اور نہ ہی امریکہ سمیت اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں نے اسٹڈی کی بنیاد پر کوئی منصوبہ بنایا، جس کے تحت 35 لاکھ افغان مہاجر آبادی کے اثرات سے پاکستان میں اقتصادی، تجارتی، سیاسی، تہذیبی، ثقافتی بنیادوں پر منفی انداز میں بکھرنے والی معاشرتی، سماجی بُنت کے ادھڑنے کے عمل کو روکا جا سکتا، اور یہ حقیقت کہ اُس وقت افغان مجاہدین کی آمد سے ملک اسلحہ اور منشیات کی تیاری، تجارت اور استعمال کو فروغ ملا اور یوں پاکستان کو سماجی ، ثقافتی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ اس دور میںبھارت نے پاکستان پر کشمیر اور بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کی مدد کر نے کے الزامات عائد کئے۔
دوسری جانب پاکستا ن میں بھی بم دھماکے اور ایسی تخریبی سرگرمیاں شروع ہو گئیں جس کے پسِ پردہ سوویت یونین اور بھارت تھے، اگر چہ یہ کہا جا تا ہے کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت 1978 میں حاصل کر لی تھی جب بھٹو جیل میں تھے مگر ضیاالحق نے ساتھ ہی میزائل ٹیکنالوجی کے حصول پر پوری توجہ دی اور آج پاکستان ا سی بنیاد پر میزائل ٹیکنالوجی میں ا پنی دفاعی صلاحیت کے لحا ظ سے بھارت سے کچھ آگے ہے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ اسرائیل بھی میزائل حملہ کرتا ہے تو پاکستان اُس کا موثر جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ 1982 سے جب امریکہ نے اسٹنگر میزائل مجاہدین کو فرا ہم کئے تو روسی فضائیہ کی کمر ٹوٹ گئی، یہ میزائل ایک انسان اپنے کاندھے پر رکھ کر زمین سے فضا میں اڑتے گن شپ ہیلی کاپٹر یا لڑا کا طیارے پر داغ سکتا تھا، اور اسی فیصد تک یہ میزائل ٹھیک ٹھیک ہدف پر لگتے تھے۔
اس جنگ کو اگر جنگِ عظیم اوّل اور دوئم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی جنگ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کیونکہ یہ 1945 سے جاری سرد جنگ کا فائنل راونڈ تھا جس کو امریکی سی آئی اے نے سوویت یونین میں بیٹھے اپنے اہم ایجنٹوں کے ساتھ ڈیزائن کیا تھا لیکن ایران اور پاکستان کے حالات کی وجہ سے یہ مرحلہ غیر متوقع وقت پر آیا مگر امریکی اتحاد کے لیے نہایت موزوں تھا، سوویت یونین نے جن اثرات کو بفر اسٹیٹ افغانستان میں روکنے کا منصوبہ بنایا تھا وہ سرد جنگ کی تکنیک کے لحاظ سے بالکل ہی غلط ثابت ہوا۔
افغان عوام کی اکثریت بنیادی طور پر مذہب پرست رہی ہے اور یہاں اسلام کی آمد کے بعد افغانیوں نے کسی غیر مسلم کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا، برطانیہ نے یہاں تین جنگیں لڑیں اور آخر افغانستان کو بفر اسٹیٹ کے طور پر قبول کر لیا، واضح رہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا میں صرف تین آزاد اسلامی ملک رہ گئے تھے، ترکی جسے اتاترک مصطفی کمال پاشا نے انگریزوں سے لڑ کر آزاد کروایا تھا، سعودی عرب جسے اس لیے آزاد رکھا گیا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان مطمئین رہیں اور مشتعل نہ ہوں اور تیرا ملک افغانستان تھا جو دو بڑی قوتوں کی سرحدوں کے درمیان حائلی ریاست ’’بفر اسٹیٹ‘‘ کے طور پر چھوڑدیا گیا تھا ۔
یوں افغانستان اب بھی ایسا اسلامی ملک ہے جس نے تاریخ میں کبھی غلامی کو قبول نہیں کیا، اب سوویت یونین کو سخت جان، حرت پسند، جہاد پر ایمان رکھنے والے مجاہدین کا سامنا تھا جن کو جدید ہتھار چلانے کی تربیت پاکستانی فوج نے دی تھی اور اِن کے اہل خانہ کو پاکستا ن نے پناہ دی اور وہ ایسی بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ روسی فوجیں پناہ مانگتی تھیں، اگرچہ یہ جنگ دنیا کے سامنے صرف افغان مجاہدین کی سوویت یونین کی فوجوں اور افغانستان میں اُن کی کٹ پتلی حکومت کے خلاف تھی، مگر سرد جنگ کے حوالے سے یہ جنگ اردگرد کئی ملکوں کو متاثر رہی تھی خصوصاً بھارت جو سوویت یونین کا قریبی دوست تھا۔
یوں افغان جنگ کی وجہ سے امریکی سی آئی اے، روسی ایجنسی کے جی بی، بھارتی را اور پاکستان کی آئی ایس آئی سرگرم عمل تھیں، سابق سوویت یونین کے پائیلٹ بیورو میںاٖفغان جنگ کے دوران دو تین مرتبہ سنجیدگی سے غور کیا گیا کہ اگر پاکستان پر بھر پور انداز میں حملہ کر دیا جائے تو افغانستان میں مزاحمت کو سختی سے دبا لیا جائے گا اور اس کے لیے بھارت سے بھی رابطے کئے گئے جہاں اندرا گاندھی کی حکومت تھی جس کو یہ اندازہ تھا کہ اب پاکستان 1971 کا پاکستان نہیں رہا بلکہ اور زیادہ مضبوط اور طاقتور ہو گیا تھا۔
اس لیے اگر بھارت پھر روس سے مل کر پاکستان پر حملہ کر دیتا تو بھی بھارت اور سوویت یونین دونوں کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا تھا، پھر اقوام متحد ہ کے ممبران کی بہت بڑی اکثریت روسی جاریت کے خلاف تھی تو دوسری جانب بھا رت میں کشمیر میں مجاہدین کی جانب سے آزادی کی تحریک شدت اختیار کر گئی تھی اور بھارتی پنجاب میں آزاد خالصتان کے لیے سکھوں کی تحریک عروج پر پہنچ گئی تھی، جسے دبانے کے لیے سکھوں کی جماعت اکالی دل کے خلاف منصوبہ بندی شروع کردی گئی تھی، اندرا گاندھی کا پہلا دور اقتدار 24 جنوری 1966 سے24 مارچ 1977 تک تھا پھر اس کے بعد دوسرا دور 14 فروری 1980 سے31 اکتوبر 1984 تھا پہلے دورِ اقتدار میں انہوں نے بنگلہ دیش بنایا مگر 1975 میں شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے بعد بھارت میں اُن کی مقبولیت کم ہو گئی تھی اور وہ دوسری مرتبہ اقتدار میں آئیں تو بھارت میں خود علیحدگی کی بہت سی تحریکیں بڑی طاقت کے ساتھ ابھریں یہ اُن کے لیے چیلنج تھے مگر انہوں اسی دور میںبڑی قوتوں سے ساز باز کرتے ہوئے کشمیر کے علاقے میں سیا چن کا محاذ بھی کھول دیاجاری ہے)
Source-

Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: