ن لیگ کی آخری لڑائی،نواز کا بیانیہ بول رہا تھا شہباز کا خاموش ،تجزیہ کار

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 1:05:00 AM -
  • 0 comments
کراچی (ٹی وی رپورٹ)ن لیگ کی پر یس کانفرنس پر جیو کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شہباز گل کھل کر کہتے ہیں تیس چالیس لوگ ہیں ساٹھ ستر لوگوں کو پورا کرنا ہے یہ ساری چیزیں انٹرلینک ہیں اور یہ پریس کانفرنس نون لیگ کی آخری لڑائی ہے۔پریس کانفرنس میں نواز شریف کا بیانیہ بول رہا تھا اور شہباز شریف کا بیانیہ خاموش تھا ، تحقیقات ہونی چاہیے، سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اگر وہ نہیں لیتے تو چیئرمین نیب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کیوں کہ اس کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔خصوصی نشریات میں تجزیہ کار ارشاد بھٹی ،حامد میر اور مظہر عباس نے اظہار خیال کیا۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ یہ جو انہوں نے ویڈیو دکھائی ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اس کا فرانزک آڈٹ ہوجانا چاہیے چیک کرلینا چاہیے دوسری بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف کو ایک ہی جج نے سزا دی تھی کیا ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججز کی بھی کوئی آڈیو ویڈیو ہے جنہوں نے پہلے فیصلے میں تین نے کہا تھا ان کو
نااہل کر دیا جائے یا دوسرے فیصلے میں جنہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے نااہل کر دیا ۔ میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی میں جھوٹ کیوں بولا کس نے کہا تھا سپریم کورٹ میںٰ پورے ریکارڈ نہ دیں خالو کو نہ پہنچانیں مریم نواز تو خود تاریخی جھوٹ بول چکی ہیں کہ میری تو کوئی جائیداد ہی نہیں ہے اس کے بعد جائیداد نکل آئی ہے مریم نواز نے ہی اپنے خاوند کو بھی پھنسا دیا جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر سائن کر کے مطلب اس کا کیا ہے کچھ سمجھ نہیں آرہی کیا وہ کہنا چاہ رہیں تھیں ۔اس کا فرانزاک ہونا چاہیے اگر اتنا بڑا ثبوت مریم نواز کے ہاتھ آگیا ہے اب تو ستر سالہ تاریخ بدل جانی چاہیے اصلی اور نقلی ہونے سے پہلے ہاؤس آف شریف کے ڈراموں پر نہیں جانا چاہیے ۔ پونے چار سو سوالوں میں سے تیس کے جواب دیئے مریم نواز اور نواز شریف نے اور کیپٹن صفدر نے فلیٹ کب خریدے کس نے خریدے کوئی ڈاکیومنٹ نہیں۔انہوں نے کبھی اپنا مقدمہ عدالتوں کے باہر نہیں لڑا ہمیشہ عدالتوں کے باہر ڈرامے کیے ہیں۔مسلم لیگ نون بہترین وکیل کرسکتے ہیں اگر سپریم کورٹ ازخود نوٹس نہیں لیتی تو وہ خود لے کر جاسکتے ہیں ۔اینکر پرسن حامد میرنے کہا کہ میں اس وقت پریس کلب اسلام آباد میں ہوں یہاں پر صحافیوں کی میٹنگ ہے صحافیوں کو جو دھمکیاں مل رہی ہیں ہم صبح سے اس پر میٹنگ کر رہے ہیں مجھے نہیں پتہ مریم نواز شریف نے کیا کہا ہے۔وہ جو کچھ بھی کہہ رہی ہیں ان کا حق ہے کہ وہ اپنا موقف پیش کریں لیکن انہیں چاہیے تھا جب حکومت تھی وہ جوڈیشری کے ساتھ اور میڈیا کے ساتھ محاذ آرائی اس وقت نہ کرتے اور نواز شریف کے کیس کو صحیح طریقے سے لڑتے مریم نواز کی پریس کانفرنس کا علم نہیں ہے اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو ثبوت قوم کے سامنے پیش کریں ۔میں نے تھوڑی دیر پہلے دیکھی ہے بہت حیران کن ہیں کس طرح جج صاحب نے ناصر بٹ کے ساتھ گفتگو کی ہے میرا خیال ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔سپریم کورٹ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اگر وہ نہیں لیتے تو چیئرمین نیب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کیوں کہ اس کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔سزا سنانے والا جج یہ کہہ رہا ہے کہ مجھے رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور میں نے نواز شریف سے زیادتی کی ہے توایک ہی طریقہ ہے کہ جج صاحب اس کی وضاحت کریں اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہ ہماری اعلیٰ جوڈیشری کی فوری توجہ کا متقاضی ہے اگر اعلیٰ عدلیہ نے اس پر توجہ نہ دی تو ہماری عدالتوں سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ مریم نواز نے جو تفصیلات دی ہیں اس پر اعتراض کر سکتے ہیں لیکن نظر انداز نہیں کرسکتے۔ مسلم لیگ نون کو بھی چاہیے وہ کسی عدالت میں جا کر درخواست دائر کریں اور تمام ثبوت کسی عدالت میں پیش کیے جائیں تاکہ معاملہ آگے بڑھے اس کا فیصلہ نہیں ہوگا تو پاکستان کو نقصان ہوگا ۔تجزیہ کارمظہر عباس نے کہا کہ یہ چیز کوئی نئی نہیں ہے پاکستان کی تاریخ میں یہ ہوتا رہا ہے لیکن یہ پتہ نہیں کہ جو مریم نواز نے ویڈیو سنائی ہے اس میں کتنی صداقت ہے اس پر جج صاحب کا کیا ردِ عمل آئے گا۔ جاوید اقبال کی بھی ویڈیو لیک کی گئی تھی اور اس چینل سے لیک کی گئی تھی جو اس کے مالک ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا تھا وزیراعظم ہاؤس سے تعلق ہے ساری چیزوں کو نظر انداز کیا گیا اس میں بھی پیمرانے ایک سافٹ نوٹس لیا اس کی کوئی اعلیٰ سطح پر تحقیقات نہیں ہوئیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کس حد تک درست کہہ رہے ہیں یا نہیں کہہ رہی ہیں اس کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیں۔
Source-

Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: