نمک ( فائدے اور نقصانات )

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 9:57:00 PM -
  • 0 comments



نمک ایک کثیر الاستعمال شے ہے۔ اس کے رنگ اور مقامِ پیدائش کے لحاظ سے اس کی کئی قسمیں ہیں مثلاً
1 ۔ سیندہا نمک ۔  اردو میں اسے نمک لاہوری، نمک سیند ہا اور انگریزی میں راک سا لٹ Rock Salt  کہتے ہیں ۔یہ کھیوڑہ، ورچھا اور کالا باغ سے نکلتا ہے۔ یہ نمک چونکہ دو آبہ سندھ ساگر سے آتا ہے اس لیئے اسے سنسکرت میں  سیندھو نمک کہتے ہیں۔  یہ نمک سرخی مائل اور سفید دو طرح کا ہوتا ہے۔ استعمال کیلئے سرخی مائل بہتر سمجھا جاتا ہے اگر اس میِں خام سنگی اجزائ نہ ہوں تو۔ کھیوڑہ کے نمک میں 97.36٪ کلورائیڈ آف سوڈیم اور باقی 2.64٪ مختلف مرکبات ہیں۔
2 ۔ نمک شیشہ
یہ قدرے سخت ہوتا ہے اور سیندہا نمک کا وہ حصہ ہوتا ہے جو شیشے کی طرح شفاف اور چوکور قلموں کی شکل میں ہوتا ہے۔  س کو ادویاتی استعمال کیلئے تر جیح دی جاتی ہے۔
3 ۔ نمک سانبھر   ( Lake Salt  ) 
یہ نمک راجپونہ کی مشہور جھیل سانبھر کے پانی کو گڑھوں میں خشک کر کے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ خوشگوار مگر قدرے تیز ہوتا ہے۔ یہ سیندھا نمک سے کم فوا ئد رکھتا ہے۔
4 ۔ نمک شور ، سمندری نمک   Sea Salt
یہ نمک ساحلی علاقوں میں سمندر کے پانی کو سورج کی تپش سے خشک کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ اطبائ نے اسے بدترین اور قدرے تلخ بیان کیا ہے۔ اس نمک کو ایران میں آٹے میں ملا کر خمیر اٹھا کر روٹی پکاتے ہیں ۔
5 ۔ نمک سیاہ
اسے ہندی میں کالانمک ، اردو میں سونچرنمک، اور انگریزی میں بلیک سالٹ  Black Salt کہتے ہیں ۔ اس میں  کلورائید  آف سوڈیم،  سلفیٹ آف سوڈا، کاسٹک سوڈا اور تھوڑاسا سلفیٹ آف سوڈ یم بھی پایا جاتا ہے۔ یہ مصنوعی نمک سجی اور سیندہا نمک سے بنایا جاتا ہے۔ اور ہاضم چورنوں میں بکثرت استعمال ہوتا ہے۔
نمک پہاڑی ، بحری ، ارضی کئی قسم کا ہوتا ہے۔ پنج لون وئیدک شاستروں میں عام اصطلاح ہے جس کے معنی  اوپر بیان کردہ پانچوں نمک ہیں۔
مزاج ۔گرم و خشک بدرجہ دوم (نمک سیاہ زیادہ گرم ہے)
مقدار خوراک ایک ماشچہ سے 4 ماشہ تک
افعال و استعمال ۔
1 ۔ صحت کی حفاظت ، زندگی کی بقا اور کھانے کو لذیز بنانے کیلئے نمک غذا کا ایک ذروری جز ہے۔ ہر قسم کا مصالحہ ڈالا جائے اور نمک نہ ڈالاجائے تو غذا بد مزہ پھیکی اور بیکا ر محسوس ہوتی ہے۔
2 ۔ نمک ہاضمہ کو تیز کرتا ہے۔  بھوک لگاتا ہے۔ قبض کشا ہے۔ قوتِ ہضم کیلئے مفید ہے۔ کھٹی ڈکاروں کو روکتا ہے۔ ریاح کو تحلیل کرتا ہے۔ بد ہضمی اور پیٹ درد کو دور کرتا ہے۔
3 ۔  نمک بلغم کو خارج کرتا ہے اور زیادہ مقدار میں کھلانا قے لاتا ہے۔ ایک تولہ پسا ہوا نمک ڈیڑھ پائو پانی میں حل کرکےپینا قے آور ہے۔
4 ۔ جب کلیجہ جلتا ہوا محسوس ہو اور کھٹے ڈکار آتےہوں تو غذا میں مصالحہ اور نمک کم کر دینا چاہئے۔
نمک شور عظمِ طحال کیلئے مفید ہے۔
5 ۔ نمک اگرچہ خون کا ایک ضروری جز ہے۔ پھر بھی اس کا کثرتِ استعمال مضرِ صحت ہے۔ 
6 ۔ نمک بلڈ پریشر کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔  اسلیئے دنیا میں نمک کم کھانے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ جن لوگوں کا بلڈپریشر کم رہتا ہے وہ نمک کے نقصان سے بچے رہتے ہیں ۔
7۔ استسقائ کے مریضوں کو غذا نمک کے بغیر دی جاتی ہے تاکہ مریض کو پیاس نہ لگے۔
8 ۔ نمک کا زیادہ استعمال قوتِ باہ پر برا اثر ڈالتا ہے، بدن کو لاغر کرتا ہے اور بال قبل از وقت سفید کرتا ہے۔







نمک دنیا کے ہر خطے مین خوراک کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عنصر انسانی جسم کے خلیوں کے عوامل مین مئوثر کردار ادا کرتا ہے۔۔ کسی بھی عنصر کی جسم میں زیادتی ما بعد اثرات کی کی حامل ہوتی ہے۔ اسی طرح نمک کی زیادتی بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ 
جن لوھوںکا بلڈپریشر کم رہتا ہے وہ نمک کے نقصان سے بچے رہتے ہیں ۔ خوراک مین ڈالنے کے علاوہ قدرتی طور پر سوڈیم آئنز پھلوں اور سبزیوں میں بھی عام پایاجاتا ہے۔ 
دنیا نمک کم کھانے کا رحجان بڑھ رہا ہے کیوں کہ یہ بلڈپریشر کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج کل خوراک میں ایسی چیزیں عام استعمال کی جا رہی ہیں جو بلڈ پریشر کے بڑھانے میں معاون ہیں ۔مثلاً چائے کافی کوک وغیرہ۔ لہٰزا ان حالات میں اگر نمک کا استعمال بڑھایا جائےتو بلڈ پریشر کے زیادہ ہونے کا رحجان بھی بڑھے گا۔ 
ریسرچ سے  ثابت ہوا ہے کہ بعض لوگوں کے بلڈ پریشر پر زیادہ نمک کے استعمال کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ جن لوگوں کابلڈپریشر نمک کے استعمال سے زیدہ ہوجاتا ان مین کیلشیم کی کمی ہوتی ہے۔ لہٰزا کیلشیم کی کمی والے لوگ اگر زیادہ نمک استعمال کرین ھے تو ان کا بلڈپریشر بڑھے گا۔ 
بلڈپریشر جو آئندہ خطرہ بن سکتا ہے 160/90 سےزیادہ ہے جبکہ نارمل بلڈپریشر 120/80 ہے۔
نمک کی روزانہ مقدار جو استعمال ہو رہی ہے۔ آدمی 4 گرام  عورت 3 گرام
ضرورت      2400 سے 2800 ملیگرام روزانہ ۔ 
نمک کی جسم میں زیادتی کیلشیم کی کمی  کا موجب بنتی ہے۔ کیلشیم کی کمی کی تمام علامات یا بیماریاں نمک کی زیادتی سے پیدا ہوسکتی ہیں ۔ مثلاً ہڈیوں کا کمزور ہو جانا ۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہڈیوں کی کمزوری کیلشیم کی کمی کا نتیجہ ہے۔جو بالکل ٹھیک ہے۔لیکن دوسری طرف نمک کی زیادتی کیلشیم کی کمی کا باعث بنتی ہے۔
تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اوسطاً ایک چائے کا چمچ نمک 25 ملی گرام کیلشیم جسم سے خارج کر دیتا ہے اور کیشیم کاضائع ہونا کافی نقصان دہ ہے۔ 
اگر آپ کی خوراک میں کیلشیم کافی مقدار میں موجود ہے تو خطرے کی بات نہیں لیکن اگر خوراک میں کیلشیم کی مقدار کم ہے تو خطرات کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر یومیہ 1600 ملی گرام نمک استعمال کیا جا ئے تو کیلشیم کی کم مقدار جسم سے خارج ہوگی ۔
نمک کے زیادہ استعمال سے معدہ میں خراش پیدا ہوتی ہے جس سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔  تجربات نے ثابت کردیا ہے کہ نمک کینسر پیدا کرنے والا کیمیائی مرکب ہے۔ معدہ کا سرطان زیادہ تر چین، جاپان ، اٹلی اور امریکہ کے لوگوں کو ہوتا ہے جو نمک زیادہ استعمال کرتے ہیں ۔ آجکل پوٹیٹو چپس کا استعمال جسم میں نمک کو بہت زیادہ بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔ 
دودھ اور دہی کاکم استعمال کیلشیم کی کمی کا باعث بن رہا ہے۔ کیفین والے مشروبات بھی کیلشیم کی کمی کا باعث ہین ۔

Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: