ہیپاٹائٹس اے ،بی اور سی Hepatitis A,B,&C

  • Posted by Mian Zahoor ul Haq
  • at 6:17:00 AM -
  • 0 comments

انسانی جسم میں ہر وقت تقریباً ہر بیماری کے جراثیم و وائرس داخل ہوتے رہتے ہیں لیکن جسم کی قوتِ مدافعت کا قدرتی نظام  ان جراثیم اور وائرس کو ختم کردیتا ہے۔ جراثیم بکٹیریا اور وائرس وغیرہ کو پنپنے یا پھیلنے کیلئے ایک خاص قسم کا ماحول درکار ہوتا ہے اگر وہ ماحول میسر نہ آئے تو جرا ثیم اور وائرس وغیرہ خود بخود ختم ہوجاتے ہیں۔لیکن اگر انہیں سازگار ماحول مل جائے اور بدن کی قوتِ مدافعت بھی کمزور ہو تو ان کی نشونما ہونے لگتی ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے لگتے ہین اوران کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے، انسانی جسم ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور بیماری کا شکار ہوجاتاہے۔
عام طور پر یہ مشاہدہ میں آیاہے کہ تیزابیت والے جسم میں جراثیم اور وائرس آسانی سے غلبہ حاصل کرلیتے ہین۔ ورنہ نارمل حالات میں ان کا جسم میں نشونماپانا ناممکن ہوتا ہے۔
تیزابیت انسانی جس کی قوتِ مدافعت کی زد ہے۔ تیزابیت قوتِ مدافعت کو کمزور کرتی ہے۔ انسانی جسم کی قوتِ مدافعت بڑھاکرجراثیم اور وائرس وغیرہ کی پیدا کردہ بیماریوں سے محفوظ رہے سکتے ہیں۔
جدید تحقیق کی رو سے  جگر کے امراض وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ان کو ہیپاٹائٹس کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔



اور ان کی اقسام میں ہیپاٹائٹس G,E,D,C,B,A   شامل ہیں ۔
زیادہ تر ہیپاٹائٹس C  ، B,A پائے جاتے ہیں
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہیپاٹائٹس A ترقی یافتہ ممالک کا مرض ہے۔ ہیپاٹائٹس Bجنسی تعلقات سے پھیلتا ہے۔ اور یہ مرض تیزی سے پھیل رہاہے۔ اسکے علاوہ ہیپاٹائٹس C کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور یہ بھی جگر کو ناقابل، تلافی نقصان پہنچاتاہے۔
ہیپاٹائٹس وائرس کس طرح جگر کو تباہ ہیں۔
جگر میں جب وائرس پہنچ جاتاہے اور ان کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو یہ زہریلے مرکبات خارج کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ خارج شدہ زہریلے مرکبات انسانی جسم کو مختلف امراضِ جگر میں مبتلا کردیتے ہیں۔ جگر میں ورم پیدا ہو جاتاہے اور اس میں یہ زہریلے مادے سدوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر یہ سدے خارج نہ ہوں تو مرض پیچیدہ سے ہیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔
وائرس  A کی وجہ سے مرض مختصر عرصہ کیلئے رہتا ہے اور یہ جلد ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ وائرسB اور C تمام زندگی انسانی جسم میں رہے سکتےہیں، جس سے جگر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ عام طور پر وائرس C کو ناقابلِ علاج مرض قرار دیا گیا ہے۔
امراضِ جگر میں عام طور پر مندرجہ ذیل علامات پا ئی جاتی ہیں۔
1 ۔تھکاوت کا زیادہ احساس                                          
2 ۔ یرقان 
3 ۔ سستی Lethargy
4 ۔ جگر کے مقام پر سختی کا احساس
5 ۔ جگرکی رنگت کا بدلنا ۔آنکھوں کی رنگت کا بدل جانا
6  ۔بھوک کم ہو جانا۔ متلی اور قے کا رحجان
7 ۔ مقامِ جگر پر درد کا احساس
8 ۔ جوڑوں کادرد اور معدہ کا ورم وغیرہ
جگر کے افعال
1 ۔ ہضم کی قوت کو بڑھاتاہے
2 ۔ خون صالح پیدا کرنا۔
3 ۔ گردون کی طرف مائیت کو دافع کرنا
4 ۔ پتہ کی طرف صفرا کو دافع کرنا
5 ۔ تلی کی طرف سودا کے دا فع کرنا
 جگر سےخون صالح کی تولید جگر کی صحت کی علامت مانی جاتی ہے۔ اگر خون صالح پیدا نہیں ہورہا ہوتا تو یہ جلد اور آنکھوں کی رنگت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً آنکھوں میں سفیدی کا آجانا۔ آنکھوں میں سرخ ڈوروں کا غائب ہو جانا ۔ آنکھوں میں زردی کا آجانا۔ یہ تمام غلیظ خون کی علامات ہیں اور ان کا تعلق جگر سے ہے۔

جگر کے مریض میں اوپر بیان کردہ علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہونی شروع ہوتی ہیں۔ ان کے ظاہر ہونے میں 10سال ،20سال، یا 30سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
جگر کے مرض میں مبتلا تقریباً20٪ مریض سی روسس Cirrhosis کا شکار ہو جاتے ہیں جس سے جگر اپنا کام سر انجام نہیں دے سکتااور بعض حالات میں جگر کا کینسر ہوجاتاہے جو جان لیوا ثابت ہوتا ہپے۔
وائرس اے پھیلنے کی وجوہات
1 ۔ جنسی تعلق
2 ۔ وائرس اے سے آلودہ خوراک اور پانی کا استعمال کرنا۔
وائرس بی پھیلنے کی وجوہات
1 ۔ جنسی تعلق
2 ۔ہیپاٹائٹس بی کے  وائرس خون میں بسیرا کرتے ہیں اور بذریؑعہ خون ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ خون کا خون سے رابطہ ہونا۔ ایک ہی سرنج کا مختلف لوگوں کیلئے استعمال کرنا۔ سرجیکل آلات کا سٹرلائز کیئے بغیر 
ا ستعمال کرنا۔
وائرس سی پھیلنے کی وجوہات
1 ۔ ہیپاٹائٹس سی کے وائرس بھی خون میں بسیرا کرتے ہیں اور بذریعہ خون ہی  ایک فرد سے دوسرے فرد میں داخل ہوتے ہین۔ 
ہییُاٹائٹس اے ، بی اور سی کا علاج اور بچاؤ
ہیپاٹائٹس اے کا وائرس اگرچہ ہمارے جگر کو مستقل نقصان نہیں پہنچا تا لیکن اس سے مریض کافی دنوں تک پریشان رہتا ہے۔
اس سے بچائو کیلئے مدافعاتی ٹیکے دستیاب ہیں۔ بیرون، ملک سفر سے پہلے یہ ٹیکے ضرور لگوائیں۔
ٹوائلت استعما ل کرنے کے بعد ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔
حفظانِ صحت کے اصولوں کی سختی سے پابندی کریں۔
کچی یا نیم پختہ سبزیاں کھانے سے گریز کریں۔
پینے کیلئے صاف پانی استعمال کریں۔
بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ کہ ہیپا ٹائٹس بی اور سی کی علامات لمبے عرصہ تک پوشیدہ رہتی ہیں۔ ان کےا نفیکشن میں مبتلا مریض لاعلمی میں زندگی گزارتا رہتا ہے اور جب خطرناک علامات ظاہر ہوتی ہیں اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
ہیپاٹائٹس بی اور سی سے محفوظ رہنے کیلئے ایک بار ا ستعمال شدہ سرنج دوبارہ استعمال نہ کی جائے۔
آکو پنکچر یا ناک کان چھید تے وقت سٹرلائزڈ سوئیاں استعمال کی جائیں۔ دانت کان یا دیگر قسم کی سرجری کیلئے سٹرلائزڈ آلات استعمال کیئے جائیں۔
نجی استعمال کی چیزیں ٹوتھ برش، شیونگ ریزر، نیل کٹر وغیرہ ایک دوسرے کا استعمال نہ کریں۔
بلڈ ٹراسفر سے پہلے لازماً  بلڈ سکریننگ کی جائے۔
ہیپاٹاٹس بی اور سی کا علاج ابتدائی مراحل میں ممکن ہےلیکن اگر جگرکو بہت زیادہ نقصان پہنچ چکا ہو تو پھر اس پر قابو پانا مشکل ہے۔

امراضِ جگر کا طبی علاج

اونٹ کٹارا Milk Thistle 

اونٹ کٹارا تقریباً 2000 سال سے  جگر اور پتہ کی مختلف بیماریوں میں استعمال ہو رہا ہے۔اونٹ کٹارا کا موئثر جز سیلی می رین اس کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔
اونٹ کٹارا کی دوائیں یورپ اور امریکہ میں جگر کی مختلف بیماریوں کے علاج کیلئے بہت پاپولرہیں۔ 
انسانوں پر کیئے گئے تجربات سے ثابت ہواہے کہ اونٹ کٹارا کامو ئثر جز سیلی می رین جگر کے مختلف امراض کیلئے انتہائی موئثر دوا ہے جس میں  لیور سورائی سس ،کرانک ہیپا ٹائٹس، الکحل اور کیمیائی استعمال سے متاثرہ جگر۔ حمل کے دوران بائل ڈک کی سوزش اور بائل  نہ بننے کے امراض میں یہ بے حد مفید ہے۔ زیابیطس وائرس کا حملہ اور زہریلے مادوں کی موجودگی میں یہ انتہائی موئثر کردار ادا کرتا ہے۔ قدییم طبی نظریات کے مطابق اونٹ کٹارا کی دیگر خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں۔
1 ۔ جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔
2 ۔طحال اور جگر کیلئے عظیم نفع بخش ہے۔
3 ۔ بلغم اور باد کو ختم کرتا ہے
4 ۔ ہاضم ہے۔ صفراپیدا کرتاہے۔
5 ۔ بدن کوقوت دیتا ہے۔
مقدار خوراک ۔  اونٹ کٹارا کا ایکسٹریکٹ جس میں70٪ سیلی می رین ہو اس کی 100 سے200 ملی گرام مقدار صبح دوپہر شام استعمال کروانی چاہئے۔ بازار میں اسکی انگریزی کمپنیوں کی تیار کردہ دوائیں دستیاب ہیں۔
یا
تخم اونٹ کٹارہ ۔ دوگرام صبح ،دوپہر ۔شام



Author

Written by Admin

Aliquam molestie ligula vitae nunc lobortis dictum varius tellus porttitor. Suspendisse vehicula diam a ligula malesuada a pellentesque turpis facilisis. Vestibulum a urna elit. Nulla bibendum dolor suscipit tortor euismod eu laoreet odio facilisis.

0 comments: